بنگلورو،8؍مئی (ایس او نیوز) دارالعلوم سعیدیہ و سعیدیہ یتیم خانہ کا سالانہ عظیم الشان جلسہ اور دستار بندی و تقسیم انعامات گذشتہ روز منعقد ہوا جس میں مدرسہ کے فارغ التحصیل علماء قراء و حفاظ کی دستار بندی کی گئی اور فارغ ہونے والے طلبا کو سرٹی فیکٹ سے نوازا گیا۔ جلسہ میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما حکیم الملت امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی صاحب باقوی نےخطاب فرماتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہوا کرتے ہیں۔ جہاں امت مسلمہ کے نونہالوں کو عربیہ وینیہ میں دینی علوم سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔دینی تعلیم کی بنیاد قرآن مجید سے ہے اور قرآن مجید کے ساتھ احادیث ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ پر قرآن مجید نازل ہوا۔ رسول اللہؐ نے قرآن مجید کا تحمل فرمایا اور اسی قرآن مجید کو آپ نے انسانیت کے سامنے پیش فرمایا اور قرآن مجید کو سمجھانے اور اللہ تعالیٰ کی وحدنیت کو انسانوں تک پہنچایا۔ امیر شریعت نے کہا کہ دنیا کے تمام کام رسول اللہ ؐ کی تشریف آوری کے موقع پر موجود تھے اور ہورہے تھے اور کوئی کام رکا ہوا نہیں تھا، جس کو سمجھانے یا سکھانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے رسول کو دی۔ نبی کریمؐ دنیاوی چیزوں کو بتانے کے لئے نہیں۔ بلکہ احکامات خداوندی کو انسانیت کے آگے پیش کرتے ہوئے انہیں راہ راست پر لانے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل علماء قراء حفاظ ، رسول اللہ کے نائب ہیں اس لئے وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیتے ہوئے احکامات خداوندی اور شریعت محمدیؐ پر چلنے کا درس دیں۔
مولانا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم بتانا ، صحیح اور غلط کی وضاحت کرنا۔ یہ پیشانی جو اپنے مقصد سے ہٹ چکی تھی، اس کو اللہ کے دربار میں جھکانا یہی مقصدآپؐ کا تھا۔ مزید بتایا کہ رسول اللہ ؐ پر قرآن نازل ہوا۔ آپ نے اس کو سنایا ، سمجھا یا اور بتایا اور اس کے احکامات بتائیں اس کی وضاحت فرمائی ، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ؐ نے حج الوداع کے موقع پر امت کو نصیحت کی کہ وہ گمراہی میں نہ پڑتے ہوئے قرآن مجید اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔انہوں نے فارغ ہونے والے طلبہ سے کہا کہ وہ اپنے سیکھے ہوئے علم کو دوسروں تک وسیع کرتے ہوئے رہنمائی کرتے رہیں ۔ اس موقع پر امیر شریعت نے مدرسہ کے بانی و مہتمم مولانا عبدالرحیم سعید رشادی صاحب کے خدمات کو کافی سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کی اور ہمیشہ مدرسہ کے ساتھ اپنے لگاؤ کا بھی یقین دلایا۔ قبل ازیں جامعہ نورالہدیٰ نیلور آندھراپردیش کے بانی و مہتمم مولانا مفتی عبدالوہاب صاحب رشادی ڈاکٹر امجد حسین حافظ کرناٹکی ، شکاری پور شیموگہ سمیت دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔
امیر شریعت کو’’اشرف الملک‘‘ کا لقب : دارالعلوم سعیدیہ کے بانی و مہتمم مولانا عبدالرحیم سعید رشادی نے خیر مقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے حکیم الملت امیر شریعت مولانا مفتی محمد اشرف علی صاحب باقوی کو ’’اشرف الملک‘‘ کے لقب سے نوازا اور انہیں سپاس نامہ بھی پیش کیا ، مفتی صاحب نے اس کو قبول کرتے ہوئے مولانا سید عبدالرحیم سعید رشادی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ فارغین میں تین علماء کرام، 7حفاظ کرام ، اور تین قراء کرام شامل ہیں ، ان طلبا کو مفتی محمد اشرف علی صاحب کے ہاتھوں دستاربندی کرنے کے بعد سند پیش کی گئی، آخر میں امیر شریعت کے دعائیہ کلمات پر جلسہ اختتام ہوا۔ جلسہ کا آغازی قاری شعیب صاحب رشادی کی تلاوتِ قرآن پاک اور عبدالرحیم کی نعت شریف سے ہوا۔ بزبان عربی میں تقریر سعداللہ جماعت پنجم اور اردو میں شکیب خان جماعت چہارم نے کی اور مقامی ایم ایل اے اکھنڈ سرینواس مورتی کی آمد پر استقبال اور مدارس عربیہ کے متعلق استاذ مدسہ ہذا مولانا منور حسین صاحب رشادی نے کنڑا زبان میں شاندار انداز میں سمجھایا کہ مدارس عربیہ کس کام میں لگے ہوئے ہیں ، تمام آئے معزز علامء عمائدین کا حضرت مہتمم صاحب نے خیر مقدمی خطاب فرمایا اور مولانا منور حسین صاحب رشادی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ اس موقع پر حضرت مہتمم صاحب و دیگر اراکین دارالعلوم سعیدیہ اسٹیج پر موجود علماء و عمائدین نے حضرت حکیم الملت امیر شریعت کرناٹک کو اشرف الملک کے خطاب سے نوازا۔ مولانا محمد اسمٰعیل رحمانی رشادی ، نائب مہتمم جامعہ ندوۃ الا برار ، مولانا ریاض احمد رشادی بانی و مہتمم جامعہ روضتہ البنات ، مولانامفتی رفیق احمد خان رشادی مہتمم مدرسہ عربیہ مشکوٰ ۃ العلوم ، مولانا اسمٰعیل کیرنوری رشادی بانی و مہتمم جامعہ لطیفیہ ، مولانا عرفان رشادی بانی و مہتمم مدرسہ صفتہ النور ، مولانا رفیق احمد سعیدی رشادی بانی و مہتتم الجامعۃ العربیہ اشرف العلوم ، مولانا نذیر احمد باقوی بانی و مہتمم مدرسہ روح الاسلام باگے پلی، مولانا نسیم صاحب رشادی، مولانا شمیم صاحب مظاہری ، مولانا امام حسین صاحب رحمانی ، مولانا ڈاکٹر مشتاق صاحب رشادی ، مولانا عبدالغفور صاحب باقوی قاری رضوان بیگ سمشی ، مولانا ڈاکٹر امجد حسین حفاظ کرناٹک جمعہ مسجد کے چیرمین انور شریف صاحب پرویز کشمیری صاحب و جملہ اراکین دارالعلوم سعیدیہ اساتذہ جمیع طلبا ان کے علاوہ بہت سے علماء اور عمائدین شریک جلسہ رہے ۔